زوال کے وقت تلاوت قرآن کا حکم

04/24/2019 AZT-27463

زوال کے وقت تلاوت قرآن کا حکم


زوال کے وقت میں قرآن پاک پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب بعون الملك الوهاب

زوال کے وقت نماز پڑھنا تومکروہ وممنوع ہے،مگرقرآن ِپاک پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔

 چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے:عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ عَنْ اَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُا ثَـلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُولُ اﷲِصلیٰ الله عليه وآله وسلميَنْهَانَا اَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ اَوْ اَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّی تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّی تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّی تَغْرُبَ۔

موسیٰ بن علی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تین اوقات میں نماز پڑھنے اور اموات کو دفن کرنے سے روکتے تھے: ایک طلوع آفتاب کے وقت جب تک وہ بلند نہ ہو جائے، دوسرا ٹھیک دوپہر کے وقت یہاں تک کہ زوال نہ ہو جائے، تیسرا غروبِ آفتاب کے وقت تاوقتیکہ وہ مکمل غروب نہ ہو جائے۔

(الصحيح المسلم، 1: 568، رقم: 831)

واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ ۔

  • مفتی محمد سیف اللہ باروی
  • رئیس دارالافتاء مفتی محمد اکرام المحسن فیضی

متعلقہ

تجویزوآراء