اشعار  

گر صادقی و مومنِ کامل بَراہِ دیں

حدیثِ سی و یکم ازکتاب ’’جامع صغیر‘‘ نوشتہ شد

 

عَنْ اَبِیْ نَصْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

اَدِّبُوْآ اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلَاثِ خِصَالٍ:حُبِّ نَبِیِّکُمْ وَ حُبِّ اَھْلِ بَیْتِہٖ وَ قِرَآءَۃِ الْقُرْآنِ، فَاِنَّ حَمَلَۃَ الْقُرْاٰنِ فِیْ ظِلِّ اللہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ مَعَ اَنْبِیَآئِہٖ وَ اَصْفِیَآئِہٖ۔

 

یہ ابو نصر نے حدیث لکھی
یعنی ہے حکم و ا
مرِ مصطفوی
ایسا فرماتے تھے نبی کریم
اپنی اولاد کو کرو تعلیم
دو ادب اُن کو تین چیز کے ساتھ
اور سکھلاؤ اُن کو تین صفات
ایک تو
حُبِّ مصطفیٰ میں رہیں
اور مصروف اِس ولا میں رہیں
دوسری
حُبِّ اہلِ بیتِ نبی
ہوئے حاصل بَہ اِختصاصِ ولی
تیسری وہ پڑھا کریں قرآں
جس سے حاصل ہو عَیشِ جاویداں
کہ بَہ تحقیق دن قیامت کے
حا
ملِ مصحفِ خدا کے لیے
سایۂ رحمتِ خدا ہوگا
حشر میں ظِلِّ کبریا ہوگا
وہ قیامت کا روز ہے ایسا
ظلّ و سایہ جہاں نہیں پیدا
ہوں گے اُس دن یہ حا
ملِ قرآں
سایۂ کردگار میں بَہ  اماں
انبیا، اَصفیا کے  ہوں گے ساتھ
یعنی دیکھیں گے وہ یہ راہِ نجات
ہو تجھے خیر کی جزا، کاؔفی!
اور بھی شعر کچھ سُنا، کاؔفی!

 

اشعار

 

گر صادقی و مومنِ کامل بَراہِ دیں
حُبِّ نبی و آلِ نبی را تو برگزیں
قرآں بخواں کہ خواندان قرآن بہتر است
ظِلِّ خدا برای تو در روزِ محشر است

...