شیخ الاسلام حضرت علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی المعروف مدنی میاں  

منم مرزوق تو رزق الہی

قطعہ

منم مرزوق تو رزق الہی
سرشت ذات تست عالم پناہی
خوشا بندہ نواز ماغریباں
سلامت بادایں رحمت نگاہی
انااامرزوق واللہ تعالیٰ
ھو الرازق لکل العالمین
واجلسک علی عرش الکرامۃ
وفتح بابک للسائلین
کفی بالفضل انہ قد اقام
کاسمک رزقہ للمستعین
علینا الا متنان علی التوالی
لمن بعث سراج الغوث فینا
نظر کو نور دیا دل کو تازگی بخشی
جسے زوال نہ آئے وہ زندگی بخشی
کرم تو دیکھو در پاک پر طلب کرکے
جو انکی شان کے لائق تھی شئی وہی بخشی

...

کہتا ہوں اللہ کا پیارا بزم بتاں کی سیر کو نکلا

کہتا ہوں اللہ کا پیارا بزم بتاں کی سیر کو نکلا
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً
عرش کے تارے فرش کے ذرے آمد سرور پہ کہہ اٹھے
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً
کفر کے پیکر شرک کے خوگر خم کیا خانۂ یزداں میں سر
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً
صنعت آذر صنم پتھر بول اٹھے کعبے میں گرکر
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً
ہیں متزلزل قصر ضلالت چہرۂ شیطاں پہ چھائی حسرت
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً
خلق کے لب پہ نشید محبت مٹ گیا دور خون اخوت
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً
مہر نبوت چرخ پہ چمکا کون و مکاں میں ہوگیا چرچا
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً
ہے اعجاز حبیبﷺ داور رسمِ جہالت مٹ گئی اخؔتر
جاَءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ اْلباَطِلُ اِنَّ الْباَطِلَ کاَنَ زَہُوْقاً

...

زمیں پر نازش خلد بریں معلوم ہوتی ہے

مخمس

برغزل حضرت محدث اعظم ہند ﷫و﷜

زمیں پر نازش خلد بریں معلوم ہوتی ہے
جھکی ہر اک بلندی کی جبیں معلوم ہوتی ہے
بزیر چرخ‘ چرخ ہفتیمں معلوم ہوتی ہے
مدینے کی زمیں بھی کیا زمیں معلوم ہوتی ہے
لئے آغوش میں عرش بریں معلوم ہوتی ہے
نہیں ہے کوئی تم سادوسرا میں یارسول اللہﷺ
ہے تیرا عکس روئے مہر و مہ میں یارسول اللہﷺ
نہ کیوں عالم ہو تیرے آسرا میں یا رسول اللہﷺ
ترے جودوکرم کی ہر ادا میں یارسول اللہﷺ
نمود شان ربُّ العالمین معلوم ہوتی ہے
خدا تک ہے پہنچنے کا تو زینہ تیرا کیا کہنا
شراب معرفت سے پُر ہے سینہ تیرا کیا کہنا
تری ہر اک گلی ہے رشک سینا تیرا کیا کہنا
تعالیٰ اللہ اے ارض مدینہ تیرا کیا کہنا
بلندی عرش کی زیر زمیں معلوم ہوتی ہے
کبھی تیری پلک میں ہوگئی جنبش اگر آقا
کلیجہ چاند نے چیرا تو سورج ڈوب کر نکلا
مکاں سے لامکاں تک ہے فقط اک گام کا رستہ
سراپا حق سراپا نور بے سایہ ز سرتاپا
بشر کہنے کی کچھ صورت نہیں معلوم ہوتی ہے
بتائے اخؔتر نادان کیا؟ منزل ہے کیا ان کی
خدا ان کا دو عالم کی ہر اک شی باخدا ان کی
سراپا رحمت ربّ العلا ہے ہر نگہ ان کی
سیہ کاران امت کے لئے زلفِ سیہ ان کی
سراسر رحمت اللعالمیں معلوم ہوتی ہے
ہر اک لب پر رہے گا حشر میں چرچا محمدﷺ کا
لب محشر پہ بھی ہوگا فقط خطبہ محمدﷺ کا
تمہیں معلوم کیا ہے مرتبہ ہے کیا محمدﷺ کا
گنہگاروں سے پوچھو زاہد و رتبہ محمدﷺ کا
انھیں قدر شفیع المذنبیں معلوم ہوتی ہے
محبت تیری زینہ ہے ترے رب کی محبت کا
کلام اللہ بھی قائل ہے تیری افضلیت کا
کرے سارا زمانہ لاکھ دعویٰ ہمسریت کا
ہر احمق خواب ہی دیکھا کرے اپنی نبوت کا
اسی میں شان ختم المرسلیں معلوم ہوتی ہے
خدا خود مدح خواں ہے جس مقدس آستانے کا
جہاں سر ہوگیا خم خودبخود سارے زمانے کا
جہاں پر سلسلہ ہے رحمتوں کے آنے جانے کا
نتیجہ یہ ہوا اس آستاں پر سر جھکانے کا
بجائے سنگ در میری جبیں معلوم ہوتی ہے
نگاہِ ناز نے ہل چل مچادی ہے مرے دل میں
کہاں اب فرق باقی مجھ میں ہے اور مرغ بسمل میں
بتاؤں کیسے اخؔتر کیا ملا ہے ان کی محفل میں
خدا جانے کے سودا سرمیں ہے یا درد ہے دل میں
مگر اک چوٹ سی مجھ کو کہیں معلوم ہوتی ہے

...

چاہتا ہے گر رہے دونوں جہاں میں سرخرو

تحریض عمل

چاہتا ہے گر رہے دونوں جہاں میں سرخرو
پی شراب لَنْ تَنَال واالبر حَتّٰی تُنْفَقُوْ
دیکھ تجھ سے بےخبر ہے وقت کی کیا آرزو
ہر قدم فاروق﷜ سا ہر حوصلہ صدیق﷜ خو
تیرے اس مینارۂ تنویر کی تجھ کو قسم
خواب سے اٹھ توڑ دے غفلت کے ہر جام و سبو
ہو کے رہ جائیں گے مال وزر غبار نقشِ پا
راہِ حق میں تو بہا کے دیکھ لے اپنا لہو
بادہائے خواب کی سرشاریاں اچھی نہیں
یہ نہیں شایانِ شانِ الَّذین اٰمنوْ
حامیٔ دینِ متیں اک دن بفضل کبریا
سلسبیلِ کوثر و تسنیم ہوگی اور تو

...

اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکرترا

اظہار تشکر

اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکرترا
خاک بے مایہ سے انسان بنایا، مجھ کو
زیور دانش و حکمت سے سجایا مجھ کو
نقش پائے شہ عالم پہ چلایا مجھ کو
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
تیرہ وتار فضا میں، میں بھٹکتا رہتا
اور نہ جانے پہونچتا کہاں، گرتا پڑتا
گر کہیں تیرے کرم سے نہ اُجالا ہوتا
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
تیری بخشش نے چلائی جو محبت کی نسیم
غنچۂ روح کھلا پھوٹ پڑی اس سے شمیم
گر گیا تن سے مرے نفرت و وحشت کا گلیم
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
ساقئی کوثر و تسنیم کا میخوار کیا
بادۂ حب نبیﷺ سے مجھے سرشار کیا
دل تاریک کو رشک مہ ضوبار کیا
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
تونےبخشی ہے فضاؤں میں بھی پرواز کی تاب
کردیا خاک کے ذرے کو بھی ہمدوش سحاب
مجھ کو بخشی تیری بخشش نے ادائے شب تاب
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
مجھ کو طوفاں سے کھلاتا ہے، سہارا تیرا
غرق ہونے سے بچاتا ہے، سہارا تیرا
اور ساحل سے لگاتا ہے سہارا تیرا
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
ماندگی مجھ میں جو پاتی ہے، عنایت تیری
سرمۂ نیند لگاتی ہے عنایت تیری
میرا دکھ، درد مٹاتی ہے عنایت تیری
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
حسرت ویاس نے جب بھی مجھے بیزار کیا
تیری رحمت نے بڑے پیار سے بیدار کیا
میں تو غفلت میں پڑا تھا مجھے ہشیار کیا
اے خدا شکر ترا، شکر ترا، شکر ترا
عہدۂ شکر سے ہو عہدہ برا ناممکن
لاکھ اخؔتر ہوں مگر تیری ثنا ناممکن
مرغ شیراز بھی یہ بول اٹھا ’’ناممکن‘‘

...

مدینے جانے والے دردمندوں کی صدا سن لے

فریاد

مدینے جانے والے دردمندوں کی صدا سن لے
غریبوں کی حکایت بے کسوں کی التجا سن لے
پکڑ کر روضہ اقدس کی جالی چوم کر کہنا
دل فرقت زدہ کی اے حبیب کبریاﷺ سن لے
عنادل مائل شور وفغاں ہیں گل ہیں پژمردہ
خدارا جوردوراں اےزمانے کے شہاسن لے
تمہارے ہجر میں پر درد میری زندگانی ہے
براہیمی چمن کے عندلیب خوشنوا سن لے
گھرا کب سے پڑا ہوں بحر عصیاں کے تھپیڑوں میں
شکستہ ناؤہے ناساز رفتار ہوا سن لے
ہے باد صر صر الحاد کی یورش بہر جانب
پڑے ہیں رہزن ایماں بشکل رہنما سن لے
وہ مسلم حرکت غمزہ تھی جن کی  قہرربانی
وہ سہتے ہیں زمانے کی ہر اک جورو جفا سن لے
وہ  مسلم مارتا تھا ٹھوکریں جو تخت شاہی پر
وہ مارا مارا پھرتا ہے مثال بے نو اسن لے
نگاہِ لطف ہو حال پریشان مسلماں پر
طفیل گنبدِ خضریٰ ہماری التجا سن لے
یہی اک آرزو ہے میرا مدفن ہو مدینے میں
خلیل ملتجیٰ سن لے مسیحی مدعا سن لے
چمک پاتے ہیں سب تجھ سے مری قسمت بھی چمکادے
ہمارے مخزن رحم و کرم کان سخاسن لے
یہی ہے مختصر فریاد قلب اخؔتر محزوں
مرے مشکل کشا سن لے مرے حاجت روا سن لے

...

الوداع اے راحت جانِ مسلماں الوداع

وداع ماہ رمضان

الوداع اے راحت جانِ مسلماں الوداع
الوداع صداے بنائے دین و ایماں الوداع
کہتا ہے لخطہ بہ لخطہ قلبِ حیراں الوداع
الوداع اے نازش مہر درخشاں الوداع
الوداع اے میرے پیارے ماہ رمضان الوداع
گلشنِ انسانیت میں آیا تو بن کے بہار
تیری عظمت خود بیاں کرتا ہے ربّ کردگار
کررہا ہے کیوں جدائی سے میرا سینہ فگار
جارہا ہے چین کو لے کر کہاں فرّخ تبار
الوداع اے میرے پیارے ماہ رمضان الوداع
عندلیبانِ چمن کو کیا مسرت عید سے
ہوگئے جب آج وہ محروم تیری دید سے
دل کو تو مخمور کرتا تھا مئے توحید سے
ہوگئے محروم تیری مئے کی آشا مید سے
الوداع اے میرے پیارے ماہ رمضان الوداع
کیا کہوں جب حال دل ہے سامنے تیرے عیاں
چشم گریہ میں ہے میری بند ہے میرا دہاں
ہے ہماری آج عرض حال سے قاصر زباں
اور اشک غم کا ہے سیلاب آنکھوں سے رواں
الوداع اے میرے پیارے ماہ رمضان الوداع
آج سونا سانظر آتا ہے سارا گلستاں
کیوں نظر آتے ہیں ساکت بلبلانِ نغمہ خواں
دل کے ہر گوشے سے آتی ہے صدائے الاماں
اخؔتر خستہ کو بتلا جارہا ہے تو کہاں
الوداع! اے میرے پیارے ماہ رمضان الوداع

...

کیوں چاند ہے پیلا پیلا سا کیوں شور ہے برپا تاروں میں

نماز عشق

کیوں چاند ہے پیلا پیلا سا کیوں شور ہے برپا تاروں میں
کیا آج نبیﷺ کا لخت جگر ہے تیغوں کی جھنکاروں میں
اس شیرِ خدا﷜ کے بچے نے سکھلایا زمانے کو یہ سبق
پیغام حیات نومضمر ہے شمشیروں کی دھاروں میں
جو خون کی ننھی دھار کبھی نکلی تھی گلوئے اصغر سے
ڈالی ہے اسی نے روح بقا اسلام کے ان گلزاروں میں
اعدائے نبیﷺ کے جھرمٹ مین دیکھو تو نبیﷺ کے پیاروں کو
جیسے کہ گلِ نکہت افزاں خنداں ہوں ستمگر خاروں میں
کہتے ہیں نماز عشق کسے شبیر﷜ سے کوئی جا پوچھے
معبود کی چوکھٹ پر خم ہے سر تیروں کی بوچھاروں میں
وہ سر چوکسی دن چمٹا تھا محبوب خدا کے سینے سے
 یہ شامئی ناحق کوش اُسے پھرتے ہیں لئے بازاروں میں
اے زر کے پرستارو سوچو رکھا ہے کسے تشنہ تم نے
ہے مصحف رخ کی جس کے جھلک قرآن کے ہر ہر پاروں میں
اک چاند چمکتا ظلمت کے پردوں کو ہٹانے آگے بڑھا
باقی نہ بچا جب کوئی بھی زہرا﷝ کے بہتر تاروں میں
تفسیر لمن یُقتل بننا امت کو سکھانا تھا ورنہ
کاٹے جو گلوئے آل نبیﷺ ہے تاب کہاں تلواروں میں
اک پیکر حق و صداقت نے اس راز کو افشاں کرہی دیا
جنت کی بہاریں پنہاں ہیں زنجیروں کی جھنکاروں میں
بیمار سی حالت دیکھ کے تم بیمار نہ سمجھو عابد کو
ہوتے ہیں مسیحا وقت کے جو یہ بھی ہیں انھیں بیماروں میں
اے کونئ لایونی سن لے شبیر ہیں ان مسہ پاروں میں
کوئی بھی نہیں ثانی جن کا ان مہروقمران تاروں میں
آباد تھا کرنا امت کے تاراج شدہ گھر کو ورنہ
خیموں کو جلا دیں انگارے جرأت یہ کہاں انگاروں میں
اب دست درازی گلچیں کی ان پھولوں تک بھی آپہونچی
اخؔتر جو پلے تھے پیارے خدا کے پیارے نبیﷺ کے پیاروں میں

...

چہرے بتارہے ہیں یہ بارہ امام کے

چہرے بتارہے ہیں یہ بارہ امام کے
سب عکس بے مثال ہیں خیرالانام کے
جو کھوگئے ہیں عارض و گیسوئے یار ہیں
فرصت کہاں کہ پیچھے لگیں صبح و شام کے
دیکھے گئے ہیں قیصر و دارائے وقت بھی
قدموں پہ سر جھکائے تمہارے غلام کے
لَاتَرْفَعُوْ کہیں تو کہیں لَاتُقَدَّمُوْا
قرآن دے رہا ہے اصول احترام کے
اپنے تو اپنے غیر کے دامن بھی بھر گئے
قربان تیرے جود ترے فیض عام کے
کتنے نظام آئے رہے اور چلے گئے
ٹھہرانہ کوئی سامنے ان کے نظام کے
ہے دنگ اوج عرش معلیٰ بھی دیکھ کر
جلوے تیرے عروج تیرے احتشام کے
اللہ کا کلام تھا طالب حبیبﷺ کا
اور حضرت کلیم تھے طالب کلام کے
کہتے ہوئے یہ قطرہ سمندر میں کھو گیا
قربان اس بقا کے نثار اس دوام کے
بے شک ہیں جبرئیل شدید القویٰ مگر
آگے نہ جاسکے وہ میرے خوش خرام کے
اپنا شریک ہم کو کیا لاشریک نے
احکام بھیج کر کے درود و سلام کے
اخؔتر کرم ہے نعت رسول کریمﷺ کا
چرچے ہیں ہر دیار میں تیرے کلام کے

...