شیخ الاسلام حضرت علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی المعروف مدنی میاں  

تابش زندگی مرکزِ آگہی تیری کیا شان ہے خواجۂ خواجگاں

منقبت

تابش زندگی مرکزِ آگہی تیری کیا شان ہے خواجۂ خواجگاں
ہے رضا میں تیری تیرے رب کی خوشی میرا ایمان ہے خواجۂ خواجگاں
نور ہی نور ہے تیرے دربار میں غرق ہے روضۂ پاک انوار میں
آپ کی آپ کے رب کی سرکار میں کس قدر مان ہے خواجۂ خواجگاں
اتنا مجھ پر کرم آپ فرمایئے آیئے آیئے بے حجاب آیئے
بخت خفتہ کو آکر جگا جایئے میر ارمان ہے خواجۂ خواجگاں
کتنے کھوٹوں کو جس نے کھرا کردیا کتنے سوکھوں کو جس نے ہرا کر دیا
غم سے چاہا جسے ماورا کر دیا تیرا فیضان ہے خواجۂ خواجگاں
شرم مانع ہے عرض خطا کیلئے لاج رکھ لو ہماری خدا کے لئے
ہاتھ اپنا اٹھا دودعا کے لئے دل پسیمان ہے خواجۂ خواجگاں
وقت رحلت جبیں پر جو تحریر(۱) تھی رفعتِ شان اقدس کی تفسیر تھی
تو حبیب خداﷺ ہے حبیب خدا رب کا اعلان ہے خواجۂ خواجگاں
روحِ شیرخدا﷜ راحت فاطمہ
مظہر شان مختار ہر دوسرا
ہند کی سرزمیں کیلئے باخدا رب کا احسان ہے خواجۂ خواجگاں
کیوں رہے خوف طوفاں سے اندوہگیں یہ ترا اخؔتر بندہ ٔ کمتریں
یہ تصور نہیں کیا سکوں آفریں تو نگہبان ہے خواجۂ خواجگاں

۱؎ ’’ھٰذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ‘‘

...

طور سینا ہے کہ ہے یہ خانقاہ اشرفی

خانقاہِ اشرفی

طور سینا ہے کہ ہے یہ خانقاہ اشرفی
کس قدر رونق فزا ہے جلوہ گاہ اشرفی
اے دل مضطر نہ گھبرا ہوش میں آ اس جگہ
دیکھ وہ پیش نظر ہے بارگاہِ اشرفی
درد دل میں لیکے بیٹھا ہوں انھیں کے آس میں
دیکھئے ہوتی ہے کب مجھ پر نگاہِ اشرفی
لوگ دامن کو کشادہ کر کے کیوں مسرور ہیں
ہاں کہیں اے دل نہ ہو یہ بارگاہِ اشرفی
لاڈلے شیرخدا﷜ کے غوث﷜ کے فرزند ہیں
شاہ سمنان﷜ کے ہیں پیارے میرے شاہ اشرفی﷫
ساتھ عالم چھوڑدے اس کی مجھے پرواہ نہیں
میں سگ اشرف ہوں کافی ہے پناہ اشرفی
کاش اخؔتر مجھ کو طیبہ میں ملے تھوڑی سی جا
ورنہ میری قبر ہو اور بارگاہِ اشرفی

...

چشم الطاف اشرف پیامل گئی

چشم الطاف اشرف پیامل گئی
میرے درد جگر کی دوا مل گئی
دل کو اشرف پیا تیرا غم کیا ملا
سچ تو یہ دولتِ بےبہا مل گئی
میں ہوں ممنون تیرا مرے درد دل
حشر میں رحمتِ کبریا مل گئی
تخت کو کیوں نہ وہ مار دے ٹھوکریں
تیری چوکھٹ جسے ساقیا مل گئی
اللہ اللہ رے حسن کی تابشیں
تیر گیٔ جہاں کو ضیا مل گئی
روحِ افروز اخؔتر تری راگنی
دستِ رحمت سے تجھ کو دعا مل گئی

...

وہ شہنشاہ روزگار ہوئے

نذر عقیدت

بارگاہ غوث العالم سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی﷜

وہ شہنشاہ روزگار ہوئے
مظہر شان کردگار ہوئے
اے خوشا بخت شاہ سمنانی
ہم غریبوں کے غم گسار ہوئے
تخت سمناں کو مار کر ٹھوکر
سارے عالم کے تاجدار ہوئے
ان کے جلوؤں سے ہے جہاں روشن
شمع اشرف پہ جو نثار ہوئے
پھر خزاں نے یہاں کا رخ نہ کیا
جب سے وہ نازش بہار ہوئے
میرے ساقی نگاہِ لطف و کرم
تشنہ لب پھر یہ بادہ خوار ہوئے
کتنے ناوک فگن یہاں اخؔتر
غمزۂ حسن کے شکار ہوئے

...

شاہ سمناں جو تمہارا ہوگیا

خراج عقیدت

شاہ سمناں جو تمہارا ہوگیا
پھر زمانہ اس کا سارا ہوگیا
ہوگئی پرنور بزم عاشقاں
حسن پنہاں آشکارا ہوگیا
پڑگئی جس پرنگاہِ نازنیں
عرش اعظم کا وہ تارا ہوگیا
ڈوبتے میں یاد اُن کی آگئی
پیدا طوفاں سے کنارا ہوگیا
چشم پرنم اور دل میں الجھنیں
ہجر میں ہوں ہی گزارا ہوگیا
بدنصیبی خوش نصیبی ہوگئی
جب تمہارا اک اشارا ہوگیا
اس کے در کی بھی غلامی فخر ہے
جس کو وہ کہہ دیں ہمارا ہوگیا
خیرہ چشم ماہ و اخؔتر ہوگئی
ان کا جلوہ آشکارہ ہوگا

...

ہٹ کے ظلمت سے ہم انورار تک آپہونچے ہیں

حالات حاضرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے
بارگاہِ اشرفی﷫میں

 

ہٹ کے ظلمت سے ہم انورار تک آپہونچے ہیں
مرحبا اشرفی دربار تک آپہونچے ہیں
 اک نگاہ کرم و لطف کی امید لئے
تیرے بندے تری سرکار تک آپہونچے ہیں
پھر بھلا اپنی رسائی نہ رہے گی کیوں کر
تیری محفل میں تو اغیار تک آپہونچے ہیں
کس کی رحمت نے پکارا ہے بڑے پیار سے آج
نیک تو نیک گنہگار تک آپہونچے ہیں
چوٹ پر چوٹ جو کھائی ہے ہمارے دل نے
عرض کرنے تری سرکار تک آپہونچے ہیں
اضطراب و غم و درد و الم و رنج و بلا
اے مسیحا ترے بیمار تک آپہونچے ہیں
اپنے ہی باغ کے پھولوں کو مسلنے کیلئے
بے وفا کیا ہیں وفادار تک آپہونچے ہیں
مندمل کرتے جو افکار کے ناسوروں کو
حیف صد حیف وہ پیکار تک آپہونچے ہیں
زلف الفت کایہ الجھاؤ بھلا کیا سلجھے
ہاتھ مشاطہ کے تلوار تک آپہونچے ہیں
سایۂ دست مقدس میں ہیں جو ہاتھ حضور
آج وہ جنگ کے ہتھیار تک آپہونچے ہیں
تو نے بخشا ہے جسے اپنی نیابت کا شرف
رُسوا کرنے اسے دیندار تک آپہونچے ہیں
کھاگئے آہ لباسِ گلِ رعنا کا فریب
کاش یہ جانتے ہم خار تک آپہونچے ہیں
رہنمائی کا ملا جن کو شرف ورثے میں
آہ وہ بغض کی دیوار تک آپہونچے ہیں

...

مدد مدد کہ عجب کش مکش کا عالم ہے

منقبت

بیادگار حضرت شیخ المشائخ اشرفی میاں ﷫

مدد مدد کہ عجب کش مکش کا عالم ہے
مرے سفینے سے طوفان آج برہم ہے
پھر آج شانۂ حبّ رسولﷺ آلے کر
کہ بکھری بکھری ہوئی زلف بزم عالم ہے
اے آسمان ولایت کے نّیراعظم
تری نگاہ کا امیدوار عالم ہے
تمہارے ہجر کے مارے ہیں خوگر ساون
ہر ایک فصل میں باران دیدۂ نم ہے
نہ کر خدا کے لئے دیر ساقیا آجا
کہ روٹھے جام سے ہم جام ہم سے برہم ہے
کروں میں کس لئے اب آرزوے تاجوری
ترے گداؤں میں ہوں مرتبہ یہ کیا کم ہے
جھکا ہے خاطر اخؔتر بھی اے مرے آقا
فقط جبیں ہی نہیں درپہ آپ کے خم ہے

...

اندریں محفل کن اندبسے لالۂ رخاں

تضمین

برشعراعلیٰ حضرت فاضل بریلوی﷫

 

اندریں محفل کن اندبسے لالۂ رخاں
نازشِ کاہکشاں، غیرت ماہ تاباں
لیک مثل تو ندیدم بہ نگاہ حیراں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ و پروردۂ سہ محبوباں
میرے افکار کی زینت میرے اشعار کی جاں
عالم تیرہ و تاریک کے مہر رخشاں
دیکھ کر تجھ کو نواسنج ہوئے ماہ و شاں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ و پروردۂ سہ محبوباں
ہر رگ و پے میں مئے خلقِ نبیﷺ ہے رقصاں
پھوٹتی ہے رُخِ انور سے شماعِ جیلاں
غمزۂ ناز ہے غماز ادائے سمناں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ و پروردۂ سہ محبوباں
لب ہیں برگ گل گزار حبیب رحماں
آنکھ ہیں نرگس رعنائے غزال جیلاں
اور رخسار حسیں ساغر آب رُماّں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ و پروردۂ سہ محبوباں
تیرا سر، ناز کرے جس پہ کلاہِ عرفاں
تیرا در، آکے جہاں خم ہو نعیم دوراں
تیراپا، جس کا زمانہ ہے رہین احساں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ و پروردۂ سہ محبوباں
تیرا باطن ہے میرا کعبہ دل قبلہ جاں
تیرے ظاہر پہ ہے آئینہ بھی محو حیراں
کیوں نہ پھر بول اٹھے اہل بصیرت کی زباں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ و پروردۂ سہ محبوباں
تیری تخصیص نہیں اخؔتر آشفتہ بیاں
کتنے اخؔتر ہیں نشید آرا، ترنم ریزاں
دیکھ خودشیخ رضا بھی ہیں یوں گوھر افشاں
اشرفی اے رخت آئینہ حسن خوباں
اے نظر کردۂ و پروردۂ سہ محبوباں

...

حشمت دینِ متیں دانائے کیف و کم ہوا

گلہائے عقیدت
بارگاہِ حضرت شیر بیشۂ اہل سنت﷫میں

حشمت دینِ متیں دانائے کیف و کم ہوا
پاسبان حق ہوا اسرار کا محرم ہوا
دشمنوں میں بن کے چمکا ذوالفقار حیدری
اور جب اپنوں میں پہونچا پیار کی شبنم ہوا
آسمان زرفشاں ہو یا زمین گل فروش
تو یہاں سے کیا گیا ہر اک اسیرغم ہوا
آج تاریکی اُڑاتی ہے اُجالے کا مذاق
کہ تِری دنیا کا اک نجم درخشاں کم ہوا
دل میں اپنے عشق پاک مالک عالم لئے
حاضر خلوت سرائے خالق عالم ہوا
پر تو احمد رضا پروردۂ امجد علی
آسمان اتقاء کا نّیر اعظم ہوا
زیست ہو سارے جہاں کی کیوں نہ اس کی زندگی
پیکر آدم تھا لیکن وسعت عالم ہوا
کتنی آنکھیں ہیں جو اسکے ہجر میں ہیں اشکبار
دیدۂ اخؔتر فقط تو ہی نہیں پرنم ہوا

...