علمائے اسلام  

شیخ عارف حبیب اللہ

                شیخ عارف حبیب اللہ قنوجی: فقیہ فاضل،صوفی کامل،جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے،علوم درسیہ وظاہر یہ کو بہ تمام وکمال حاصل کر کے شاہ عبد الجلیل الہ آبادی سے سلوک و صوف میں اشتغال کیا اور جب اس علم میں بھی منتہیٰ ہوئے تو اپنے آپ کو درس اور ارشاد خلق کے لیے وقف کردیا۔جواہر خمسہ اور تذکرۃ الاولیاء اور سیر میں روضۃ النبی اور انیس العارفین اور فقہ میں کتاب فاضل تصنیف فرمائیں۔وفات آپ ...

شیخ علی اصغر

                شیخ علی اصغر بن شیخ عبد الصمد قنوجی بکری کرمانی اولاد شیخ عماد الدین کرمانی صاحب فصول عمادیہ: فقہ،حدیث،تفسیر،صرف،نحو،منطق،معانی میں وحید العصر، فرید الدہر،تصوف و سلوک میں امامِ وقت تھے۔۱۰۵۱؁ھ میں پیدا ہوئے، علوم درسیہ متداولہ سید علامہ محمد قنوجی سے اخذ کیے اور متوسطات و مطولات کو حلقہ درس سید عصمۃ اللہ سہارنپوری میں تمام کیا اور تحصیل کی دستار شیخ کامل ملا محمد زمان کا ک...

صاحب مدارک

عبداللہ  بن احمد بن محمود نسفی: ابو البرکات کنیت اور حافظ الدین لقب تھا۔ شہر نسف یعنی نخشب کے جو ماوراء النہر میں واقع ہے،رہنے والے تھے۔اپنے زمانہ کے امام کامل،عالم محقق،فقیہ مدقق،فاضل عدیم النظیر،فقہ واصول میں سرآمد کے معانی میں بارع،زاہد و پرہیرز گار تھے۔ابنِ کمال پاشا نے آپ کو فقہاء کے چھٹے طبقہ میں شمار کیا ہے جو روایات ضعیفہ اور قویہ کے تمیزکرنے پر قادر ہوں۔فقہ شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری اور حمید الدین ضریر اور بدر الدین خواہر ...

علی قاروسی رکابی

علی بن محمد بن حسن قاروسی رکابی: عالم فاضل اور قاہرہ کے مدرس ہدایہ پر تعلیقات لکھیں،قاروسی آپ کو اس لیے کہتے تھے کہ آپ بہت بڑا لمبا عمامہ باندھا کرتے تھے اور رکابی کے لقب سے اس لیے ملقب ہوئے کہ آپ کے پاس رسول اللہﷺکی رکابیاں موجود تھیں،وفات آپ کی ۷۰۸؁ھ میں ہوئی۔ حدائق الحنفیہ...

ابن سراج قونوی

محمود بن احمد المعروف بہ ابن سراج قونوی: جمال الدین لقب تھا۔ اپنے زمانہ کے امام فاضل،شیخ حنفیہ تھے۔آپ نے شیخ ابو محمد مکی قیسی متوفی ۴۳۷؁ھ کی تفسیر مختصر احکام القرآن کو نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے ملخص کیا اور ۷۰۷؁ھ[1]میں وفات پائی۔’’شمع رہنما‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ ولادت ۷۰۰ھ سے قبل وفات ۷۷ھ متصل حالات آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں(مرتب) حدائق الحنفیہ...

حافظ امان اللہ بنارسی

                حافظ امان اللہ بن نور اللہ بن حسین بنارسی: منقول و معقول میں ماہر اور فروع واصول میں متجر قرآن کے حافظ تھے،شاہ عالمگیر کی طرف سے صدارت لکھنؤ پر مقرر ہوئے۔ان دنوں میں قاضی محب اللہ بھی وہاں قاضی تھے جس سے آپ کے اور ان کے درمیان اکثر مباحثے و مناظرے جاری رہتے تھے۔آپ نے اصولِ فقہ میں کتاب مفسر نام تصنیف کی اور خود ہی اس کی شرح محکم الاصول نام لکھی۔علاوہ ان کے حاشیہ تفسیر بیض...

داؤد بن عثمان رومی

داؤد بن عثمان بن یعقوب رومی: شہاب الدین لقب تھا۔بڑے عالم متجر تھے،فقہ ایک جماعت کثیر فضلاء سے حاصل کی مدت تک قاہرہ میں درس و تدریس میں مصروف رہے اور محرم کے مہینے ۷۰۵؁ھ میں فوت ہوئے۔’’خواجۂ ملک‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ...

ملا محمد اشرف نٹنو

                ملا محمد اشرف نٹنو خلف خواجہ محمد طیب: آپ احفاد مولانا علامہ خواجہ حیدر میں سے بڑے ڈکی،جید طبع،مستقیم مزاج،عالم فاضل تھے،اپنے بزرگوں سے کمالات حاصل کر کے مولانا محمد محسن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے علوم فقہ وغیرہ حاصل کر کے  بڑے متجر ہوئے اور تصنیفات رائقہ علم قراءت اور رد شیعہ اور بعض فنون میں مثل جواہر الحکم وغیرہ کے تصنیف کیں اور اکثر تصانیف میں مجاولہ اور بل...

میرا یوب بخاری

            میرایوب بخاری: بخارا کے فضلائے نامدار اور فقہائے یگانۂ روزگار میں سے تھے،جو اوائل عہد شاہ فرخ سیر میں کاشمیر میں وارد ہوکر تدریس علوم دینی اور اتباع سنت نبوی میں مشغول ہوئے،اور ۱۱۳۰؁ھ میں وفات پائی اور کوسہ پورہ میں مدفون ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)...

شیخ احمد صاحب تفسیر احمدی

                شیخ احمد المعروف [1]بہ  ملاجیون صدیقی امیٹھوی: فقیہ،محدث،اصولی، جامع معقول و منقول،علامۂ وقت،فہامہ دہر اور اورنگ زیب عالمگیر کے استاد صاحبِ فتوےٰ تھے۔آپ کا نسب حضرت ابو بکر صدیق خلیفۂ اول کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے۔آپ قصبۂ امیٹھی میں جو مضافات لکھنؤ سے ہے،پیدا ہوئے،سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا،پھر اطراف و اکناف کے علماء وفضلاء سے تلمذ کیا۔آپ بڑے صاحبِ حافطہ تھے،کتابوں ...