علمائے اسلام  

شیخ تاج الدین قلعی  

              شیخ تاج الدین قلعی بن قاضی عبد الحسن،فقیہ فاضل،محدث کامل،مفتی مکہ مکرمہ تھے،بہت سے مشائخ حدیث سے صحبت کی اور ان سے علوم کو اخذ کیا اور سب نے آپ کو اجازت دی لیکن اکثر علم حدیث کا آپ نے شیخ عبداللہ بن سالم بصری سے حاصل کیا۔آپ کا قول ہے کہ میں نے کتب حدیث کو بحث اور تنقیح کے طور پر انہیں سنایا اور صحیحین کو عجمی سے پڑھا اور سب کی انہوں نے مجھے اجازت دی۔آپ نے شیخ صالح زنجانی کی بھی ...

احمد بن بکر علی  

              احمد بن بکر بن احمد بن محمد بطیحش العکی: ۱۰۶۵؁ھ میں شہر عکا میں پیدا ہوئے،آپ نے اپنے زمانہ کے امام اجل،علامہ فاضل،عالم متجر،فقیہ ماہر،مؤلف نحریر،مفتی عکا تھے۔آپ کی تصنیفات سے فتاوی عکی و شرح ملتقی الابحر و شرح منظومہ ابن شحنہ وغیرہ یادگار ہیں۔وفات آپ کی ۱۱۴۷؁ھ میں ہوئی’’فاضل عالی فہم‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)...

خواجہ محمد محسن دہلوی

                حافظ محمد محسن مجددی نقشبندی: شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی اولاد اور شیخ محمد معصوم مجددی کے خلفاء میں سے جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور حاوی فنون رسمیہ ظاہریہ تھے اور دہلی میں آپ کے وقت کسی کو علماء و فضلائے شہر سے آپ کے ساتھ برابر کی جرأت نہ تھی،اخیر کو آپ نے ہدایت ربانی کی کشش سے شیخ محمد معصوم کی خدمت میں حاضر ہوکر علوم باطنی سے فائدہ اٹھایا اور ورع و تقوےٰ وزہدوریاضت میں...

سیّد محمد بن مصطفیٰ

                سید محمد بن مصطفیٰ بن حبیب ارضرومی نزیل قسطنطنیہ: ابو المکارم تھی۔ قسطنطنیہ کے علمائے اعلام اور قاضیوں میں جامع علوم عقلیہ ونقلیہ تھے اور مولیٰ شیخ الاسلام فیض اللہ کے عہدہ میں قسطنطنیہ میں وارد ہوئے اور بڑا مرتبہ پایا اور آپ کی بڑی عظمت و عزت ہوئی لیکن جب شیخ موصوف قتل ہوگئے تو آپ سلطانی حکم سے شہر بروسا میں جلاوطن کیے گئے جہاں آپ نے ۳۰سال اقامت فرماکر ۱۱۴۶؁ھ میں وفات پا...

احمد بن ابراہیم سروجی

احمد بن ابراہیم بن عبدالغنی بن اسحٰق سروجی: قاضی القضاۃ خطاب اور ابو العباس کنیت تھی۔اصل میں شہر سروج کے رہنے والے تھے جو شام کے ملک میں شہر حران کے پاس جہاں زر تشت پید اہوا تھا،واقع ہے۔فقہ واصول میں امام فاضل اور معقول و منقول میں شیخ زمانہ تھے فقہ قاضی القضاۃ ابی ربیع سلیمان اور محمد بن عباد خلاطی تلمیذ جمال الدین حصیری شاگرد وقاضی خان سے پڑھی،مدت تک مصر کے قاضی و مفتی اور مدرس رہے اور آپ سےامیرعلاء الدین علی بن بلبان بن عبداللہ فارسی اور علاء ...

عبد الغنی نابلسی دمشقی

          عبد الغنی بن اسمٰعیل بن عبد الغنی نابلسی دمشقی: عالم محقق،فاضل مدقق تھے۔علوم وفنون اپنے ملک کے علماء و فضلاء سے حاصل کیے اور اپنے چشمۂ فیض سے ایک جماعتِ کثیرہ کو سیراب کیا۔کتاب نہایۃ المراد شرح ہدیۃ ابن العماد اور خلاصۃ التحقیق فی مسائل التقلید والتلفیق اور لؤ لؤ المکنون فی الاخبار عما سیکون اور غایۃ الوجازہفی تکرار الصلوٰۃ علی الجنازہ وغیرہ تصنیف کیں اور ۱۱۴۴؁ھ میں وفات پائی۔ ’’م...

علبی مقدسی

                ابو بکر بن احمد بن صلاح الدین المعروف با علبی مقدسی: اپنے زمانہ کے شیخ عالم،فقیہ فاضل،محدث مقدام،عابد،زاہد،راغب فعال حسنہ تھے۔قدس میں افتاء حنفیہ کے متولی رہے پھر اسلام بول میں تشریف لے گئے اور وہاں افادہ خلائق اور نشر علوم میںمشغول رہ کر ۱۱۴۴؁ھ میں وفات پائی۔’’روزدارِ خالق‘‘ تاریخ فات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)...

علبی مقدسی

                ابو بکر بن احمد بن صلاح الدین المعروف با علبی مقدسی: اپنے زمانہ کے شیخ عالم،فقیہ فاضل،محدث مقدام،عابد،زاہد،راغب فعال حسنہ تھے۔قدس میں افتاء حنفیہ کے متولی رہے پھر اسلام بول میں تشریف لے گئے اور وہاں افادہ خلائق اور نشر علوم میںمشغول رہ کر ۱۱۴۴؁ھ میں وفات پائی۔’’روزدارِ خالق‘‘ تاریخ فات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)...

محمد عنایت اللہ قادری

             محمد عنایت[1]اللہ قادری قصوری  ثم اللاہوری الشطاری: ابو المعارف کنیت تھی۔جامع علومِ ظاہر و باطن،فقیہ فاضل،صوفی کامل تھے۔شرح وقایہ کے حواشی المسمی بہ غایۃ الحواشی دو جلدوں میں تصنیف کیے جن میں فروع کثیرہ داخل کیے اور کنز الدقائق کی شرح ملتقط الدقئق نام تصنیف کی جس میں باب تشہد کے اندر اشارہ سبابہ کی سنت کو خوب ترجیح دی۔وفات آپ کی ۱۱۴۱؁ھ میں ہوئی۔   1۔ مشہور صوفی شاعر اور...

شیخ عارف حبیب اللہ

                شیخ عارف حبیب اللہ قنوجی: فقیہ فاضل،صوفی کامل،جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے،علوم درسیہ وظاہر یہ کو بہ تمام وکمال حاصل کر کے شاہ عبد الجلیل الہ آبادی سے سلوک و صوف میں اشتغال کیا اور جب اس علم میں بھی منتہیٰ ہوئے تو اپنے آپ کو درس اور ارشاد خلق کے لیے وقف کردیا۔جواہر خمسہ اور تذکرۃ الاولیاء اور سیر میں روضۃ النبی اور انیس العارفین اور فقہ میں کتاب فاضل تصنیف فرمائیں۔وفات آپ ...