متفرق  

نفاق اُس سے ہو جائے گا یوں روانہ

صلی اللہ علی محمد

 

نفاق اُس سے ہو جائے گا یوں روانہ
کہ ہو پاک پانی سے اطرافِ خانہ
انھیں چار لفظوں کے یہ بھی فضائل
ہوئے ہیں بَہ اَسنادِ مذکور حاصل
کہ جو کوئی لائے گا اُن کو زباں پر
درِ رحمتِ حق کھلیں اس پہ ستّر
 کہا خضر و الیاس نے اور یہ بھی
کہ تقریبِ اوقات ایسی ہوئے تھی
کہ یعنی کوئی جانبِ شام سے تھا
حضورِ حبیبِ الٰہی میں آیا
کیا غرض اس نے کہ غم خوارِ اُمّت
مِرا باپ ہے ناتواں کم بصارت
اُسے ضعفِ پیرانہ سالی ہے لاحق
نہیں آپ تک آنے جانے کے لائق
تمہارا ہے پر
اُس کو شوقِ زیارت
دل و جاں سے ہے محوِ ذوقِ زیارت
کیا ایسا ارشاد محبوبِ رب نے
کہ تِرا پدر سات شب اُس کو پڑھ لے
پڑھے یعنی ان چار لفظوں کو ہر شب
تو بر آئے گا باپ کا تیرے مطلب
میسر اُسے خواب میں ہو زیارت
مناسب ہے اب اس خبر کی روایت
غرض اُس نے ارشادِ خیر البشر سے
کیا جا کے اظہار اپنے پدر ہے
کیا باپ نے اُس کے اس کا وظیفہ
ہوا واہ مقبول کیسا وظیفہ
مشرف ہوا وہ حضوری کا سائل
ہوا خواب میں اُس کو دیدار حاصل
ہوئی اور مروی یہاں یہ روایت
کہ راوی نے کی ہے بیاں یہ روایت
کہ یعنی اگر محفلوں میں تم آؤ
و یا اُٹھ کے تم واں سے باہر کو جاؤ
کہو اس طرح سے بوقتِ نشستن
پڑھو اور یہ ہی بَہ ہنگامِ رفتن

بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

موکل کو بھیجے گا واں ربِّ اکبر
رہے گا فرشتہ موکل وہ تم پر
نہ غیبت کسی کی وہاں پر کرو تم
نہ غیبت تمہاری کریں اور مردم

سنو مومنو یہ عجائب روایت
لکھی دہلوی شیخ نے کیا حکایت
کہ دیکھا تھا کعبے میں میں نے کسی کو
بسر کر رہا تھا وہ یوں زندگی کو
کبھی تو طوافِ حرم تھا وہ کرتا
صفا اور مروہ میں بھی دوڑتا تھا

تمامی مواقف مناسک میں حج کے
وہ تھا گرم کوشش خلوصِ دلی سے
کہ اطرافِ کعبہ میں آتا جہاں تھا
رسولِ خدا پر وہ صلوات خواں تھا

کہا کہنے والے نے او مردِ ناداں
دعائیں پڑھا کرتے ہیں اور کچھ یاں
یہاں کے لیے اور آئی دعا ہے
بھلا کب یہ صلوات خوانی کی جا ہے
جواب اُس نے ایسا دیا معترض کو
کہ ہے تو یہی بات کہتا جو ہے تو
و لیکن کیا میں نے ہی عہدِ کامل
کہ صلوات میں کچھ کروں گا نہ شامل
پڑھے جاؤں گا یعنی صلوات اکثر
جنابِ نبی خاتم المرسلیں پر
سبب اس کا یہ اور ہے یہ حقیقت
کہ میرے پدر کی ہوئی جب کہ رحلت
پسِ مرگ میں نے جو مُنھ اُس کا دیکھا
بَہ
شکلِ حمار اُس کا چہرہ ہوا تھا
مجھے اِس طرح کا ہوا دیکھ کر غم
کہ میں سو گیا غم کی حالت میں اُس دم
مِرے بختِ بیدار نے کی جو یاری
حضوری ہوئی مجھ کو حضرت نبی کی
جو میں نے وہ پُر نور دیدار پایا
بَہ دامانِ خیرالورا ہاتھ لایا
شفاعت
شفیعِ قیامت کی چاہی
کہ ہو باپ پر میرے
فضلِ الٰہی
سبب ایسے جرم و خطا کا بھی پوچھا
کہ اُس کے لیے موجبِ مسخ کیا تھا
کیا مجھ کو حضرت نے ارشاد ایسا
کہ سود و رِبا باپ تھا تیرا کھاتا
خورندہ غرض سود کا جو کوئی ہے
جزا و سزا اُس بشر کی یہی ہے
مگر وقتِ خفتن بَہ وِردِ مقرر
درود ایک سو بار پڑھتا تھا مجھ پر
سو اس کے سبب سے بحالِ مصلّی
ہوئی ہے شفاعت مشفَّع نبی کی
زبانِ مبارک سے مژدہ یہ سن کے
ہوا جلد بیدار خوابِ گراں سے
جو مُنھ کھول کر باپ کا اپنے دیکھا
شبِ چار دَہ کا وہ گویا قمر تھا
غرض قبر میں بھی پس و د
فنِ میّت
سنی ہاتفِ غیب سے یہ بشارت
کہ یہ باپ تیرا جو صلوات خواں تھا
رسولِ خدا پر تحیت رساں تھا

یہ اورادِ  صلوات کا ہی سبب ہے
کہ یہ ہو گیا موردِ لطفِ رب ہے
کیا لکھنے والوں نے مرقوم ایسا
کہ اک مردِ صالح کسی شہر میں تھا
ہوئے تیس سو قرض دینار اُس پر
ہوا اس سبب سے وہ حیران مضطر
یہاں تک ہوا اس کے اوپر تقاضا
کہ دارالقضا تک یہ مقروض پہنچا
کہا اُس سے قاضی نے اے نیک طینت
تجھے میں مہینے کی دیتا ہوں مہلت
مہینے میں تو قرض اپنا ادا کر
یہ بارِ گراں رکھ نہ گردن کے اوپر
غرض مردِ صالح بدرگاہِ باری
ہوا گرم اظہار فریاد و زاری
وسیلہ درودِ مبارک کا کر کے
وہ خواہانِ مطلب تھا درگاہِ رب ہے
بَہ وِردِ درود اور آہ و فغاں میں
بسر اُس نے کیں بیس اور سات راتیں
شبِ بست و ہفتم وہ کیا دیکھتا ہے
کہ اُس سے کوئی شخص یوں کہہ رہا ہے
کہ ہے  تیرے اُوپر جو قرضِ نمایاں
کیا حق تعالیٰ نے یوں اُس کا ساماں
کہ وہ  جو وزیر ابنِ موسیٰ علی ہے
تِرے قرض کی اُس پہ تنخواہ کی ہے
علی ابنِ موسیٰ سے جا کے بیاں کر
کہ ہے تجھ کو حکمِ جنابِ پیمبر
کہ دے تیس سو مجھ کو دنیار اس دم
یہی حکم کرتے ہیں سردارِ عالَم
یہ کہتا ہے صالح کہ جب خواب دیکھا
تو بس خرّم و شادماں ہو کے چونکا
مگر دل میں میرے یہ تشویش آئی
کہ جو مجھ سے وہ شخص مانگے گواہی
تو پھر کس کو لاؤں گا بہرِصداقت
صداقت نہ ہوگی تو ہوگی ندامت
اِسی فکر میں دوسری رات آئی
ہوئی پھر رسولِ خدا تک رسائی
کیا اوّلِ شب تھا ارشاد جیسا
کیا دوسری رات بھی حکم ویسا
مجھے پھر ہوئی فکرِ راہِ صداقت
کہ ہے کون میرا گواہِ صداقت
کہوں کیا کہ پھر تیسری رات میں بھی
وہی حال پایا وہی خواب دیکھی
کیا پھر بھی حضرت نے ارشاد مجھ کو
گیا کیوں نہیں ابنِ موسیٰ تلک تو
کیا میں نے معروض سلطانِ دیں سے
جنابِ نبی رحمت العالمیں سے
کہ میں ہوں نشان و علامت کا خواہاں
کہ روئے صداقت ہو جس سے نمایاں
جنابِ حبیبِ خدا نے یہ سن کر
یہ فرمایا ہو آفریں تیرے اُوپر
کہ تو ہے نشان و علامت کا طالب
قبولِ سخن پر صداقت کا طالب
اگر تجھ سے پوچھے علامت بتا دے
ہماری طرف سے یہ اُس کو پتا دے
کہ اے ابنِ موسیٰ یہ ہے تیری عادت
کہ ہوکر نمازِ سحر سے فراغت
یہاں تک کہ خورشید نکلے فلک پر
درودِ مبارک تو اٹھتا ہے پڑھ کر
معیّن ہی کی ہے یہ تعداد  دو عدت
ہزار ایک پڑھتا ہے تو پانچ نوبت
اس اوراد کے وقت اے ابنِ موسیٰ
کلام و سخن تو نہیں  اور کرتا
یہ ہدیہ جو تو بھیجتاجاوداں ہے
بجز عالم الغیب سب سے نہاں ہے
و یا وہ خبردار ہیں اس عمل سے
کہ ہیں کاتبِ خیروشر وہ فرشتے
کہا مردِ صالح نے جس وقت میں نے
ملاقات کی ابنِ موسیٰ سے جا کے
سبھی حال و احوال جو خواب کا تھا
بَہ تفصیل و تشریح اُس کو سنایا
ہوا  شاد و خرّم وہ سن اس خبر کو
ہوا میرا مدّاح اور آفریں گو
اُسی وقت وہ نقد دینار لایا
کہ لے جلد کر تو ادا قرض اپنا
دیے اور بھی مجھ کو دینار اس نے
کہ ہم وزنِ دینارِ اوّل سے ہی تھے
کہا یہ جو ہوں تجھ کو دینار دیتا
یہ نفقہ وظیفہ سمجھ اپنے گھر کا
سہ بارہ دیے دینار مجھ کو
کہ دینارِ اوّل سے تھے ہم ترازو
کہ کر اس سے حاصل متاعِ تجارت
کہ ہو تجھ کو روزی سے یعنی فراغت
قسم اور مجھ کو یہ اُس نے دلائی
کہ ثابت رہے شیوۂ آشنائی
اگر تجھ کو حاجت کوئی پیش آئے
مناسب ہے تو مجھ کو آ کر سنائے
غرض وہ جو دینارِ اوّل دیے تھے
گیا پاس قاضی کے میں اُن کو لے کے
سبھی میں نے قصّہ بھی اپنا سنایا
پھر اس نے میرے مدّعی کو بلایا
کہا اس کے ذمّے جو ہے قرض تیرا
ادا میں کروں گا یہ ذمّہ ہے میرا
سنا جب کہ قاضی سے یہ مدّعی نے
کہا قرض میں بخشتا ہوں خوشی سے
وہ قاضی نے دینار جو لا رکھے تھے
کہا یہ خدا کی رضا کے لیے ہے
اب ان کو بھی او مردِ صالح اُٹھا لے
تجھے بخشتا ہوں، براہِ خدا، لے
بیاں کیجیے اور کیا فضائل
کہ ہوتے ہیں صلوات خوا نی سے حاصل
کوئی وقت ہو یا کوئی حال لاحق
ہر اوقات میں ہے یہ اوراد لائق
خصوصِ شبِ جمعہ صلوات پڑھنا
درود اور تسلیم ابلاغ کرنا
و یا روزِ آدینہ حضرت نبی پر
سلام اور صلوات کرنا مقرر
فضائل میں ہے اور روزوں سے بہتر
مراتب میں افضل مدارج میں اکبر
شرافت  جو اس روز و شب کے لیے ہے
ثبوت اُس کا اخبار و آثار سے ہے
ورودِ روایت یہاں اور بھی ہیں
ثبوتِ کلامِ جنابِ نبی ہیں
کہ کہتے تھے یوں دین و دنیا کے سرور
کہ اس دن پڑھو مجھ پہ صلوات اکثر
کہ اس کو بَہ تخصیص لاتے ہیں مجھ تک
مِرے سامنے عرض کرتے ہیں بے شک
تو میں خیر کی تم کو دیتا دعا ہوں
گناہوں کی بھی مغفرت چاہتا ہوں
روایت میں ہے اور اس طرح آیا
کہ ارشاد ہے خاتمِ انبیا کا
کہ تم روزِ آدینہ، اے مومنو، جو
درود اور صلوات کو بھیجتے ہو
گزر اُس کو ہوتا ہے عرشِ بریں پر
نہیں عرش سے اُس کا مسکن فرو تر
فرشتے یہ آپس میں کہتے ہیں یارو
تم اس پڑھنے والے پہ صلوات بھیجو
ہوا یہ بھی ا
ہلِ فضائل سے مروی
فضیلت شبِ جمعہ کی یہ بیاں کی
کہ کیا ہی خصوصیت اس رات کی ہے
کہ اس رات تسلیم میں جو کوئی ہے
جواب اُس کو دیتے ہے سردارِ عالَم
بَہ
نفسِ نفیس و بَہ ذاتِ مکرّم
کیا یہ بھی مرقوم علمائے دیں نے
کتابِ حدیثِ شریفِ نبی سے
کہ حضرت نے ارشاد ایسا کیا ہے
کہ یہ وصف یعنی شبِ جمعہ کا ہے
کہ اس شب میں جو کوئی  بندہ خدا کا
درود ایک سو بار مجھ پر پڑھے گا
تو سو حاجتیں اُس کی ہوئیں گی آساں
مگر اُس کی تفصیل کا ہے یہ عنواں
کہ پائے گا ستّر وہ حاجاتِ دنیا
رہیں تیس باقی وہ ہیں بہرِ عقبیٰ
یہاں اور بھی ہے ورودِ روایت
کہ ہے روزِ آدینہ کی یہ فضیلت
کہ وردِ درود اس میں جو یوں کرے گا
ہزار ایک اس روز یعنی پڑھے گا
نہ باندھے گا دنیا سے وہ رختِ رحلت
نہ دیکھے گا جب تک مکان  اپنا جنّت
شب و روزِ آدینہ میں جو فضائل
کہ صلوات خوانی سے ہوتے ہیں حاصل
اِسی طرح فاضل دو شنبہ کی شب ہے
حصولِ مَراتب کا عالی سبب ہے
ہوئی اور یوں ایک وارد روایت
کہ ہے پنج شنبہ کو بھی یہ فضیلت
کہ جو کوئی سو بار صلوات گن کر
پڑھے گا جنابِ رسولِ خدا پر
کبھی وہ نہ محتاج و مفلوک ہوگا
نہ ہوگا وہ مفلوک و محتاج ہوگا
کدھر ہیں  وہ دیدارِ حضرت کے طالب
کہاں ہیں وہ مشتاقِ حُسنِ مَطالب
کہ سن لیں مِرے اِس کلام و بیاں کو
کریں اِس بیاں پر فدا اپنی جاں کو
کہ بہرِ حصول و وصولِ زیارت
لکھی ہے درودِ مبارک کی کثرت
نہیں کوئی مومن زمانے میں ایسا
کہ مشتاقِ دیدارِ حضرت نہ ہوگا
بس اب لازمِ وقت ہے مومنوں پر
درود اور صلوات کا ورد اکثر
ذرا اور بھی خاتمے پر، عزیزو!
خداوندِ اکبر کا ارشاد سن لو

صَلُّوْا عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

خدائے جہاں بادشاہِ جہاں ہے
پناہِ زمین و پناہِ زماں ہے
ملائک، کواکب کا، جنّ و بشر کا
وہ خلّاق و معبود و روزی رساں ہے
دیے اپنے محبوب کو وہ مَراتب
کہ تعریف سے جس کی قاصر زباں ہے
کہا مومنوں سے کہ یہ حکم سن لو
نبی پر خدا اُس کا صلوات خواں ہے
ملائک بھی ہیں اس کو تسلیم کرتے
وہ ایسا نبی میرا با عز و شاں ہے
سلام اور صلوات تم بھی تو بھیجو
یہ حکمِ خدا تم کو، اے مومناں ہے
بس اب، مومنو! کؔافیِ خستہ جاں کا
یہی حرزِ جاں اور وردِ زباں ہے
سلام و صلاۃ و درود و تحیت
نثارِ جنابِ شفیعِ قیامت

...

بر سفر اے ماہِ زیبا می روی

خمسہ بر غزل ِ حضرتِ سعدؔی شیرازی

بر سفر اے ماہِ زیبا می روی
کردہ ویراں شہرِ دل را می روی
عالمے ہمراہ و تنہا می روی
سردِ سیمینا بصحرا می روی
سخت بے مہری کہ بے مامے روی
پیر و برنا بستۂ گیسُوئے تو
مست کردہ اہلِ دل را بُوئے تو
قبلۂ دل ، کعبہ جاں کوئے تو
اے تماشا گاہِ عالم رُوئے تو
تو کجا بہرِ تماشا مے رومی
قلبِ ناشاداں زیک حرفِ تو شاد
تا ابد گلزار ِ حُسنت تازہ باد
اے کہ دیدارِ تو نَیل ِ ہر مُراد
گر قدم بر چشمِ  خواہی نہاد
دیدہ بر رہ می نہم می روی
اے وجودت در حسیناں معتبر
چہرۂ تو باعثِ عیدِ نظر
آئنہ گوید کہ اے رشک ِ قمر
گر تماشا می کنی در خود نگر
کے بخوشتر زیں تماشا می روی
تُو کہ در خوبی زخوباں بر تری
خود حجابِ حُسنِ خود را می دری
بے نقاب از چشمِ عالم بگذری
رُوئے پہناں دارد از مردم پری
تو پری رُو آشکارا می روی
جان و دل ہموارہ خاطر خواہِ تست
ویں نصیؔرِ خستہ خاکِ راہِ تُست
ہمچو اُو صد بندۂ در گاہ ِ تُست
دیدۂ سعؔدی و دل ہمراہ تُست
تا نپنداری کہ تنہا می روی
(عرشِ ناز)

...

از حُسن تو اُفتادہ چہ شورے بہ زمانہ

خمسہ بر غزلِ مولانا ہلالی  رحمۃ اللہ علیہ اَستر آبادی

 

از حُسن تو اُفتادہ چہ شورے بہ زمانہ
عالم ہمہ جویائے تو اے دُرِّ یگانہ
ہر کس ز تو دارد  بہ لبِ خویش فسانہ
اے تیرِ غمت را دل ِ عُشّاق نشانہ
خَلقے بتو مشغول و تو غائب ز میانہ
از دردِ تو دارم بہ دلِ خویش خزانہ
فارغ شدہ از عزّت و ناموسِ شہانہ
فریاد وشم بہر تو شیرینِ زمانہ
مجنون صفتم در بدر و خانہ بخانہ
شاید کہ بہ بینم رُخِ لیلےٰ بہ بہانہ
دیوانۂ تو ہستم و بیگانہ ز غَیرم
مانندِ صبا بہرِ تو اے لالہ! بہ سیَرم
در ذوقِ تمنّائے تو پرّاں شدہ طَیرم
گہ معتکف مسجد و گہ ساکنِ دَیرم
یعنی کہ تُرا می طلبم خانہ بخانہ
باطعنہ و تشنیع مرا نیست سروکار
گردم پئے آں یار بہر کوچہ و بازار
باشد کہ رسم در حرم ِ دوست بہ یکبار
حاجی بہ رہِ کعبہ و من طالبِ دیدار
اُو خانہ ہمی جوید و من صاحب ِ خانہ
بنگر نصؔیر آں کہ شہیدِ کرمِ تُست
آسودگئی اُو ز نویدِ کرمِ تُست
مایوس مگر داں کہ بعید ِ کرمِ تُست
تقصیرِ ہلاؔلی بامیدِ کرمِ تُست
یعنی کہ گنہ را بِہ ازیں نیست بہانہ
(عرش ناز)

...

بہ طُوفان ہائے دریا گوہرِ غلطاں شود پیدا

خمسہ بر غزل ابو المعانی میر زا عبد القادر بیدل رحمۃ اللہ علیہ

 

بہ طُوفان ہائے دریا گوہرِ غلطاں شود پیدا
بشامِ تیرگی ہا کوکبِ رخشاں شود پیدا
پس از صد خار، بر شاخے، گُلِ خنداں شود پیدا
کجا الوان ِ نعمت زیں بساط آساں شود پیدا
کہ آدم از بہشت آید بروں تا ناں شود پیدا
چرا در کسبِ آں ہر دم کنی تو سعئ لا حاصل
با الآخر تا کجا حرصش کنی چوں مردِ لا یعقل
جِنیں وش از فریبِ اُو فرومانی، چو خر در گِل
تمیزِ لذّت ِ دُنیا ہم آساں نیست اے غافل
چو طفلاں خوں خوری یک عمر، تادنداں شود پیدا
بہ جُز نا کامی و حسرت نیابی ہیچ در دُنیا
ازیں منزل گہِ حرص و ہوا بر بند محمل را
مبادا در جہاں از الفتِ  ہستی شوی رسوا
اماں خواہ از گزندِ خلق در گرم اختلاطی ہا
کہ عقرب بیشتر در فصل ِ تابستاں شود پیدا
سحابِ تیرۂ  غمہا بہ گیتی آسماں آرد
زبارانِ حوادث اہلِ عالم را بیا زارد
بہ کشتِ جان و دل ابرِ مصائب پے بہ پے بارد
بنائے وحشتِ ایں کہنہ منزل عبرتے دارد
کہ صاحب خانہ گر پیدا شود، مہماں شود پیدا
نصیؔیر از درد و غمہائے زمانہ گشتہ ای بسمل
زحق رحمت طلب در گردشِ دوراں برائے دل
براہ ِ منزل ِ حُسن حقیقت شَو گراں محمل
ردیفِ بارِ دُنیا رنجِ عُقبی ٰ ساختن بیؔدل
زگاو د خرنمی آید، مگر انساں شود پیدا
(عرشِ ناز)

...

پیکرِ اعجاز! قربانت شوم

خمسہ بریک غزلِ فارسی

 

پیکرِ اعجاز! قربانت شوم
گوہرِ ممتاز! قربانت شوم
گلبنِ صد ناز! قربانت شوم
اے بُتِ طنّاز! قربانت شوم
اے سراپا ناز! قربانت شوم
حُسنِ بے انباز! بنما جلوہ اے
شاہِ خُوباں! باز بنما جلوہ اے
باہزاراں ناز، بنما جلوہ اے
تُو بہ ہر انداز بنما جلوہ اے
من بہ ہر انداز قربانت شوم
روئے خُوبِ تو پسند ِ جان و دل
دُوریت وجہِ گزندِ جان و دل
تارِ مُوئے تُست بندِ جان و دل
حلقۂ زلفت کمند ِ جان و دل
اے کمند انداز قربانت شوم
در رہت اِستادہ کا ہیدم، ولے
جَبہَ را ہر چند سائیدم ، ولے
بر کر مہائے تو نازیدم ، ولے
گِردِ کُویت من بگردیدم ، ولے
ایں چَنیں من باز، قربانت شوم
من نصیؔرِ عاجزم، غوثِ رحمۃ اللہ علیہ جلی!
بے نوا و ناقصم، تُو کاملی
دستِ تو دستِ نبی ﷺ دست ِ علی﷜
اے کہ پائے تو بدوشِ ہر ولی
اے بپائے ناز، قربانت شوم
(عرش ناز)

...

باغم و دردِ محبّت سرو کارے دارم

خمسہ بر غزل ِیکے ا ز اہل ِ نسبتس

 

باغم و دردِ محبّت سرو کارے دارم
ہست صد داغ بہ دل، باغ و بہارےدارم
عزِّ شاہی برہش گرد و غبارے دارم
قصرِ جنّت چہ کنم کوچۂ یارے دارم
ترسِ دوزخ چہ کنم رُوئے نگارے دارم
نقش بر لوحِ دلم شد خد و خالِ لیلیٰ
وقف شد دیدۂ شوقم بجمالِ لیلیٰ
از خودم بے خبر و محوِ خیالِ لیلیٰ
ہمچو مجنوں بہ تمنّائے وصالِ لیلیٰ
روزو شب چشم سُوئے ناقہ سوارے دارم
اُو نہاں در دل و من خانہ بخانہ جویم
پا ز سر ساختہ و راہِ محبّت پویم
ہستیم نیست شدہ، عکسِ جمالِ اُویم
ہمچو منصورِ  زماں فاش اناالحق گویم
شکر صد شکر کہ سر لائق ِ دارے دارم
دیگراں راست بدل حسرت و داغِ جنّت
من ندارم سرِ سودا و دماغِ جنّت
نے مرا فرصت ِ نار و نہ فراغِ جنّت
ہمچو زاہد نہ کنم خواہش ِ باغِ جنّت
خوشتر از باغِ جناں کوچۂ یارے دارم
اے نصیؔر از دلِ من محو شدہ رنج و خوشی
دارم از خلقِ جہاں و حشت و بیگانہ وشی
روز و شب من بہ تمنّائے رسولِ قرشی
می رَوَم، نالہ کنم مثل ِ بلال حبشی
شوق پا بوسی آں  ناقہ سوارے دارم
(عرش ناز)

...

اے مُسلم از افرنگ و زبد مذہبیاں خیز

خطاب بہ مُسلمِ فرنگی منش

 

اے مُسلم از افرنگ و زبد مذہبیاں خیز
با جذبۂ حُبِِّ نبوی نعرہ زناں خیز
اے زندہ دل از محفلِ افسردہ دلاں خیز
تا چند بہ خاکِ در، دُونانِ جہاں، خیز
گر صلح نہ ورزند بہ شمشیر و سناں خیز
از خوابِ گراں خواب ِ گراں خواب ِ گراں خیز
در سینۂ تو جلوۂ یک ذات نہانست
از چشمک ِ تو کون و مکاں لرزہ بہ جانست
از قوّتِ بازوئے تو شورے بہ جہانست
ہر طفیلِ دبستانِ تو مردِ ہمہ دانست
در شوقِ طواف حرمِ حق نگراں خیز
از خواب ِ گراں خواب گراں خواب گراں خیز
از وضعِ فرنگی چو زناں مستِ خرامی
بر شیوۂ اسلاف کنی تند کلامی
اے وائے بہ بیگانہ شدی نا صرو حامی
بر پُشت نہادی روشِ رومی و  جامی
با بالِ یقیں  از قفسِ وہم و گماں خیز
از خواب ِ گراں خواب ِ گراں خواب ِ گراں خیز
گفتارِ عبث مشغلۂ روز و شبِ تُست
درنقلِ سخن ہائے متیں بستہ لبِ تُست
مردودِ خرو شیوۂ ترکِ ادب ِ تُست
بر گشتہ ز اسلاف طریقِ طلب ِ تُست
از آتش ِ آفاتِ تَردُّد، چو دُخاں خیز
از خواب ِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز
در عہد ِ سَلَف مؤمن ِ دل صاف تُو بودی
بر چرغِ ستم نیّرِ انصاف تُو بودی
آئینہ حق بینیٔ اسلاف تُو بودی
القصّہ کہ مجموعۂ اوصاف تُو بودی
اکنوں چہ شُدت اے خلفِ زندہ دلاں! خیز
از خواب ِگراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز
بر خیز ! کہ بر تو دگراں خندہ زنانند
ہشیار ! کہ در راہِ تو اشرار نہانند
زنہار ! تُراتا بہ تملّق نہ نشانند
بیدار ! کہ در حقِّ تو سر گرمِ زیانند
اے قافلہ سالارِ خرد! قافلہ راں خیز
از خوابِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز
از بحرِ طلب گوہرِ عرفاں بہ کف آوُر
اے مردِ خدا! ہمّتِ مرداں بہ کف آوُر
اے بندۂ زَر! مایۂ اِیقاں بہ کف آوُر
فقرِ عمر و  بوذر و سلماں بہ کف آوُر
با نقدِ نظر در طلب ِ حق منشاں خیز
از خواب ِگراں خوابِ گراں  خوابِ گراں خیز
میراثِ پیمبر ﷺ زر و دینار و دِرم نیست
اے مُنعمِ دیں ! در خورِ تو حرصِ نِعَم نیست
شایانِ تو محتاجئ اربابِ کرم نیست
شائستۂ  ذاتِ تو بہ جُز  دُرِّ حِکَم نیست
اے بندۂ تن! خیز پئے راحتِ جاں خیز
از خوابِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز
بے حُرمتیٔ دیں ز کج اندیشیٔ ذاتت
مجروح دلِ ملّتِ بیضا ز صفاتت
لرزاں بہ رہِ ذوقِ یقیں پائے ثباتت
بے گورو کفن مُردنِ تُو بِہ ز حیاتت
اے شیر! ز رُوباہ مزا جان ِ جہاں خیز
از خوابِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز
ایماں طلبی، از روشِ دہر حذر کن
بر بے ہنری  غرّہ مشو! کسبِ ہنر کن
خاکِ رہِ اربابِ نظر کُحلِ بصر کن
دامانِ نظر پُر ز تجلّائے نظر کن
اے بلبل لب بستہ! دمے زمزمہ خواں خیز
از خواب ِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز
دوشِ تو ز تقدیسِ امانت تہِ  بارے
خارِ چمنت رُوکش ِ صد رنگِ بہارے
شمس و قمر از شعلۂ تو جَستہ شرارے
افلاک بہ راہت اثر گرد و غبارے
با عزمِ مضمم پئے تسخیر جہاں خیز
ازخوابِ گراں خوابِ گراں خواب گراں خیز
اے کم نظر آں عفّت و تطہیر کجا شد
آں نُورِ یقیں در حقِ تقدیر کجا شد
فریادِ سحر، نالۂ شب گیر کجا شد
آں دبدبہ و صولت و توقیر کجا شد
اے شعلۂ سیّالِ عمل! شعلہ بہ جاں خیز
از خوابِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز
(عرش ناز)

...

خوش است کاکُل و چشم و دو ابروئے دلبر

برائے ذوقِ دانشورانِ علم وفن

 

خوش است کاکُل و چشم و دو ابروئے دلبر
یکے کمند و دُوُم نرگس و سِوُم خنجر
بود برائے ولم
یکے بلا و دُوُم فتنہ و سِوُم محشر
بہ چشم اہلِ وفا
یکے قشنگ و دُوُم دلکش و سِوُم خوشتر
چہ ہست بہرِ زناں 
یکے حیا و دُوُم عصمت و سِوُم چادر
بہ شرعِ مصطفوی ﷺ
یکے طراز و دُوُم زینت و سِوُم زیور
برائے مرد بود
یکے جہاد و دُوُم نصرت و سِوُم کشور
چہ خواہد از مرداں
یکے حنین و دُوُم خندق و سِوُم خیبر
طسلب کند ز سپاہ
یکے حسین﷜ و دُوُم جعفر﷜ و سِوُم حیدر﷜
بہ رزمِ تیر و سناں
یکے شجیع و دُوُم اشجع و سِوُم صفدر
ز جنگ جو خواہد
یکے خروج و دُوُم طاقت و سِوُم لشکر
دہد بہ اہلِ وفا
یکے شعور و دُوُم جرأت و سِوُم رہبر
بہ غازیاں باشد
یکے سلاح و دُوُم مِغفر و سِوُم مَعبر
بود بچشمِس عدد
یکے خدنگ و دُوُم و سِوُم نشر
فرو برد در دل
یکے نگاہ و دُوُم قربت ساقی و سِوُم دلبر
بیاد می آرد
یکے شراب و دُوُم ساقی و سِوُم ساغر
بہ چشمِ میخواراں
یکے عقیق و دُوُم لولوء و سِوُم گوہر
بہ حُسن می باشند
یکے حَسین و دُوُم احسن و سِوُم بہتر
بہ دیدۂ بلبل
یکے بہار و دُوُم جلوہ و سِوُم منظر
زرُوئے جوہر خویش
یکے نظیف و دُوُم انظف و سِوُم اطہر
چہ ہست در تخلیق
یکے زلال و دُوُم زمزم و سِوُم کوثر
بہ نزدِ تشنہ لباں
یکے معاد و دُوُم مرکز و سِوُم محور
برائے اُمّتیاں
یکے کتاب و دُوُم سنّت و سِوُم سرورﷺ
نصؔیر! در عرصات
یکے معین و دُوُم شافع و سِوُم یاور

نوٹ:۔ ہر شعر کا مصرع اوّل سابقہ شعر کے دوسرے مصرع کے الفاظ یکے دوم اور سوم چھوڑ کر باقی مالدہ الفاظ کے مرکبِ سے عاطفہ سے تشکیل پاتا ہے اور نظم کے آخر تک یہ تسلسل بر قرار رہتا ہے۔

(عرش ناز)

...

مظہر الدّیں، نعت گوئے نامور

قلمر و ِ نعت

 

کے نامور شاعر اور میرے کرم فرمابزرگ دوست جنابِ حافظ مظہر الدین صاحب ﷫ مظہر کی یاد میں

مظہر الدّیں، نعت گوئے نامور
محرمِ رمزِِ سخن، عالی نظر
سینہ اش عشقِ نبیﷺ را جلوہ گاہ
آں حق آگاہ و معارف دستگاہ
کرد بالا در ادب معیارِ نعت
اشک ہایش غازۂ رُخسارِ نعت
داشت کیفِ نعت خوانی مُستقِل
نعرہ زن با درد مندی ہائے دل
آں ہمہ سوز و ہمہ ذوق و سُرور
جان ِ اُو سرمایہ اندوزِ حُضُور
دانش از اشکہا ہموارہ تر
ذکر و فِکرش مِدحتِ خیر البشرﷺ
در نگاہِ اُو جمالِ مصطفیﷺ
ذہنِ اُو محوِ خیال ِ مصطفیﷺ
شادماں اندر ثنائے شاہِ ﷺ دیں
بُود مقصُودش رضائے شاہِ ﷺ دیں
دید مش در یادِ احمدﷺ نعرہ زن
ہم بہ تنہائی و ہم در انجمن
منقطع بود از علائق رشتہ اش
گشتہ از اربابِ ثروت دستکش
داشت عجز و انکسار ِ بر ملا
با غلامانِ رسُسولِ مجتبیٰ ﷺ
 چشم لُطف از فقر جاہاں داشتے
اجتناب از کج کلاہاں داشتے
ربط با رُومی  و جامی  بیش داشت
مِدحت ِ محبوبِﷺداور، کیش داشت
بود مظہر ؔ بلبلِ بُستانِ عشق
ہرسہ دیوانش بہ نعت ایمانِ عشق
نامِ اُو لا فانی از آثارِ نعت
چہرہ اش تابندہ از انوارِ نعت
لُطفِ ختم المرسلیں ﷺ را مظہرے
لا معات ِ سینۂ اُو خاورے
السّلام اے آستاں بوسِ رسُول ﷺ
السّلام اے واردِ بابِ قُبُول
(عرش ناز)

...

اے نکتہ ورے سخن شنا سے

بخواندۂ کتاب  بابِ جبریل

 

مجموعۂ نعت جناب حافظ مظہر الدّین صاحب ﷫ مظہر

اے نکتہ ورے سخن شنا سے
از من بپذیر التماسے
کز جادؤ منصفی نہ لغزی
صاحب نظری بہ فکر نغزی
ذہنِ تو دقیقہ یابِ معنیٰ
فکرِ تو کلیدِ بابِ معنیٰ
بس مرتبۂ سخن بلند است
کاں خاصۂ طبعِ از جمند است
ہر ذہنِ رسا وطبعِ وقّاد
در اخذِ نکات باشد استاد
انداز ِ سخن نوائے راز است
چوں تندیٔ مے جگر گداز است
در مُردہ و زندہ گر بدانی
فرقِ سخن است و بے زبانی
قدرِ سخن و سخن طرازاں
داند نگہِ ادب نوازاں
مظہر﷫ کہ بہ ذوق و شوق فرداست
در راہِ ادب یگانہ مرد است
آں حق نگرے و حق پسندے
درویش نواز، درد مندے
پیشِ فقرا نیاز کیش است
باکج  کلہاں بہ ناز بیش است
رغبت بہ سکندراں ندارد
نفرت ز قلندراں ندارد
شعرش را پایہ ایست عالی
آہنگ ز جذبۂ بلالی
کیفیّتِ نغمہ ہائے شیریں
دیدم  بہ کلام ِ مظہر الدّیں 
در معرضِ فکر و فن امینم
شرحے دہمت ازانچہ بینم
آں طرفہ سخنور و ادیب است
دیوانۂ جلوۂ حبیبﷺ است
مِدحت گرِ خاتَمْ النّبیّٖںﷺ
سلطانِ وجود، ہادیِ دیں
آں کُو  بہ رُسُل امام و سرور
ہم شافعِ اُمّتاں بہ محشر
ممتاز بہ شانِ حق نمائی
آں بندہ کہ می کند خدائی
ہم شمع ِ جمالِ بزمِ امکاں
ہم خلوتیِ حریمِ یزدداں
سر تاجِ پیمبراں، حق آگاہ
دانائے رموزِ لی مع اللہ
شاہیکہ جلیلۃُُ القُدوم است
ذاتیکہ مدینۃ ُ العلوم است
یارب! نگرم چہ طُرفہ منظر
بابِ جبریل و دستِ مظہر﷫
آں را بہ حریمِ لطف جادہِ
خیرات زخوانِ مصطفی ﷺ دہِ
دارد بہ نصؔیر رسم و راہے
با آں ہمہ احتشام و جا ہے
(عرش ناز )

...