حضرت قاضی عزیز اللہ مٹیاروی

حضرت قاضی عزیز اللہ مٹیاروی  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سندھی نثر کی تاریخ میں جو پہلا تحریری نثر ملا وہ ٹالپرکے دور میں قرآن مجید کا کا سندھی ترجمہ ہے جو کہ قاضی عزیاز اللہ مٹیاروی علیہ الرحمۃ کا عظیم کارنامہ ہے۔ سندھ کی سرزمین کا یہ پہلا خوش نصیب عالم دین ہے جس نے قدیم عربی رسم الخط میں قرآن مجید کا سندھی نثر میں ترجمہ مکمل کرنے کا شرف حاصل کیا۔

قاضی عزیز اللہ بن قاضی محمد ذاکر بن قاضی حافظ محمد صوف ’’دیتھا‘‘ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ قاضی صاحب ۱۱۹۳ھ/۱۷۷۹ء میں مردم خیز شہر مٹیاری (ضلع حیدرآباد سندھ) میں تولد ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد ٹھٹھہ کے باسی تھے اور بعد میں مٹیاری آکر مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کا خاندان دین کے علماء پر مشتمل تھا اسلئے دینی مدارس میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک رہے، اس لئے آپ کے خاندان کو ’’آخوند‘‘ بھی کہا جاتا تھا اور علم میں ناموری ، فقہ میں مہارت کے سبب نسدھ کے حکمرانوں کی طرف سے آپ کے خاندان کو قضاء کا عہدہ بھی دیا ہوا تھا جس کے سبب ’’قاضی‘‘ کہلائے ۔ آج بھی مٹیاری میں آپ کا محلہ ’’قاضی آخوندوں‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

تعلیم و تربیت:

قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم قرآن مجد، فارسی اور مروجہ سندھی اپنے والد قاضی محمد ذاکر سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد قاضی صاحب اس دور کے مشہور عالم دین مولانا محمد عثمان مٹیاروی (متوفی ۱۲۱۹ھ) کے پاس تعلیم مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ مولانا محمد عثمان کے صاحبزادے مولانا عبدالکریم مٹیاروی (۱۲۶۱ھ) قاضی صاحب کے ہمعصر اور ہم درس تھے۔

آپ نے حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، معقولات و منقولات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد نقشبندیہ سلسلہ کے عظیم بزرگ حضرت خواجہ محمد حسن صدیقی مدنی قدس سرہٗ (۱۲۹۸ھ) درگاہ لواری شریف (ضلع بدین سندھ) کے دست پر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہو کر مرشد کی خدمت میں زندگی بسر کی۔

درس و تدریس

درگاہ لواری شریف مین قیام کے دوران درس و تدریس ، فتاویٰ نویسی اور تصنیف و تالیف کا کام کیا۔ اس کے علاوہ مرش دکے حضور میں روزانہ بعد نماز ظہر تا نماز عصر تک روحانی محفل ہوا کرتی تھی جس میں قاضی صاحب شیخ اکبر حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ کی صوفیانہ کتب کا درس دیا کرتے تھے۔

تصنیف و تالیف:

آپ کی علمی ادبی اور روحانی خدمات کا سلسلہ طویل ہے ۔ مختصر جھلک درج ذیل ہے۔

۱۔      قاضی صاحب کا زندی کا عطیم کارنامہ سندھی زبان میں قرآن مجید کا نثری ترجمہ ہے۔ یہ سندھی نثر کا ابتدائی دور تھا اور قرآن مجید کاپہلا سندھی ترجمہ تھا جس سے متاثر ہو کر بعد کے علماء نے سندھی نثر میں قرآن مجید کے ترجمے کئے اور دیگر لٹریچر تیار کیا۔

۲۔     تفسیر عزیزی۔ قاضی صاحب نے قرآن مجید کو عربی زبان میں ’’تفسیر عزیزی‘‘ لکھی جو کہ غالباً مکمل نہ ہوسکی اور ہو سکتا ہے کہ شہر علم و ادب سندھ الاجی جامشورو میں محفوظ ہو۔

۳۔     حضرت امام مالک رضی اللہ عنہٗ کی حدیث شریف کی مشہور کتاب ’’موطا امام مالک‘‘ پر حواشی لکھی۔

۴۔     غوث اعظم پیران پیر دستگیر رضی اللہ عنہٗ کے مشہور زمانہ ’’قصیدہ غوثیہ ‘‘ کی عربی زبان میں شرح لکھی جو کہ آپ کا لازوال کارنامہ اور تصوف کا عظیم سرمایہ ہے۔

۵ ۔     تفسیر جلالین عربی کا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤمِنُوْنَ پارہ ۱۸ تا والناس ترجمہ کیا۔ ترجمہ کے آخر میں قاضی صاحب یوں دستخط رقم فرماتے ہیں:

’’العبد الذنب الخاطی عزیز اللہ متعلوی القاری ۱۲۶۳ ھجری‘‘

۶۔     بلند پایہ عالم دین و صوفی قاضی عزیز اللہ کے فتاویٰ کا خزانہ محفوظ نہ ہوسکا اور اپنوں کی لاپرواہی سے اکثر تحریری سرمایہ ضائع ہوگیا۔

۷۔     آپ کو اپنے مرشد کریم سے بے حد محبت تھی اور اسی محبت کا نتیجہ کہ آپ نے پوری زندگی مرشد کے قدموں میں گزار دی آپ نے ’’مشائخ نقشبندیہ کا منظوم شجرہ‘‘ بھی رقم فرمایا تھا۔

وصال:

قاضی عزیز اللہ آخری ایام زندگی میں بیمار ہوگئے اور اپنے مرشد خواجہ محمد حسن مدنی کے حضور اپنے کو اٹھوا کر لائے اور خواب کا واقعہ سنایا کہ رات خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا جو کہ نورانی سفید لباس میں ملبوس تھے انہوں نے فرمایا: ’’ آپ میری کتاب دل کے صدق سے پڑھتے ہیں اور فلاں مقام پر آپ کو باتیں سمجھ میں نہیں آئی اس کی حقیقت یہ ہے‘‘ راز و نیاز کی باتیں سمجھانے کے بعد آپ نے اپنا نام حضرت ابن عربی بتایا اور سلام کرکے جلدی چلے گئے۔

خواجہ صاحب نے خواب سن کر فرمایا: قاضی صاحب! شاید آپ کی عمر ختم ہونے کو ہے۔

اس واقعہ کے کے بعد جلد ہی قاضی عزیز اللہ مٹیاروی نے اسی برس (۸۰) کی عمر میں بروز پیر ۷ شعبان المعظم ۱۲۷۳ھ/۱۸۵۶ء میں خانقاہ لواری شریف مین وصال کی ااور وہیں عام قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

کسی بزرگ نے آپ کے وصال کا سن فارسی میں اس طرح لکھا ہے:

’’وفات مخدوم عزیز اللہ مترجم قرآن برزبان سندی ۷ شعبان دو شنبہ بوقت ضحی ۱۲۷۳ھ مدفونش درمکان لواری بہ پشت روضہ بزرگان لواری۔‘‘

ان کے علاوہ کسی بزرگ نے ’’نور اللہ مضجعہ‘‘ کے فقرے میں سے سن و۱۲۷۳ھ نکالا ہے۔

کسی شاعر نے فارسی میں تاریخ وفات کہی اس کے آخری مصرعہ سے تاریخ وفات نکلتی ہے

ہات از سر حسرت تاریخ وصال او بخواند

طوطے آں گویائی اسرار اعلیٰ ساکن ماند

(۱۲۷۳ھ)

(محترم جونیجو سائیں بخش و عبدالجبار کے مضمون کا اردو ترجمہ)

 

 

(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

تجویزوآراء